ممبئی،13؍نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) چین میں ایغور مسلمانوں پر مظالم اور قرآن پاک کی بے حرمتی ، رسول اکرم کا نام نامی محمد رکھنے پر پابندی ،مسلمانوں کو قید کرنے اور انہیں نجس جانور کا گوشت کھانے پر مجبور کرنے جیسے مظالم کے خلاف ممبئی بھنڈی بازار میں رضا اکیڈمی کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور چین کے صدر کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔
جمعرات کی سہ پہر مینارہ مسجد کے باہر احتجاج میں احتجاجیوں نے اپنے ہاتھوں میں تختیاں اٹھائے ہوئے تھے جس پر مختلف نعرے درج تھے اُن ہی میں سے ایک تختی پر چینی صدر کا فوٹو چسپاں تھا اور اس پر علامتی طورپر جوتے برساتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
معروف اُردو اخبار انقلاب کی رپورٹ کے مطابق احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے رضا اکیڈمی کے جنرل سیکریٹری محمد سعید نوری نے بتایا کہ ایغور مسلمان اپنے مذہب پر عمل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور یہ حق دنیا میںبسنے والے تمام انسانوں کو آزادی کے ساتھ حاصل ہے ۔لیکن ظالم چینی صدر نے اپنی خباثت کے ذریعے تقریباً ۱۰؍لاکھ ایغور مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے اور ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ حکومت ہند اپنے سفارتی تعلقات کا استعمال کرے اور دنیا کے تمام امن پسند انسانی بنیادوں پر صف آرا ہوکر چین کو مظالم سے باز آنے کے لئے مجبور کریں۔ورنہ ہم اس سے بھی بڑے پیمانے پر احتجاج کے لئے مجبور ہوں گے۔‘‘
مولانا محمود عالم رشیدی(خطیب وامام گوونڈی ہری مسجد)نے کہا کہ’’ایغور مسلمانوں پر ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ان کو زبردستی خنزیر کا گوشت کھانے پر مجبور کیا جارہا ہے۔اس کے خلاف حکومت ہند مسلمانان ہند کے جذبات سے اقوام متحدہ کو آگاہ کروائے۔‘‘ مولانا محمد عباس رضوی (تحریک درود وسلام) نے کہا کہ’’ ایغور مسلمانوں پر چینی مظالم کے خلاف حکومت ہند، مسلم ممالک اور امن وانسانیت کی ٹھیکیدار اقوام متحدہ کو اس تعلق سے اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہئیے ۔آخر ایغور مسلمانوں پر مظالم ، قرآنکی بے حرمتی، مساجد کے تقدس کی پامالی پر دنیا کب تک تماشائی بنی رہے گی۔دنیا کا قانون ہر انسان کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔اس لئے دنیا کے امن پسند ان مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں اواز بلند کریں‘‘۔ مولانا ولی اللہ شریفی نے کہا کہ ’’چینی مظالم سن کر روح کانپ جاتی ہے لیکن ظالم چینی صدر بڑی بے شرمی سے ایغور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لئے روزانہ نئے نیے حربے آزما رہا ہے۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں دنیا کے امن پسندوں سے کہ وہ کن مجبوریوں کے سبب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔‘‘ قاری عبدالرحمن ضیائی نے نعرہ لگاتے ہوئے کہا کہ’’ چینی صدر جن پنگ کی پہچان ظالم ، غاصب، ہٹ دھرم کے طور پر ہوتی ہے۔ اس نے اپنے ہی ملک کے غیور اور امن پسند ایغور مسلمانوں کا جینا دوبھر کردیا ہے۔اسی لئے احتجاج کے ذریعے یہ آواز بلند کی جارہی ہے تاکہ امن پسند انسانیت کی بنیاد پر متحد ہوں اور چین کو اس کے مظالم اور دہشت گردی سے روکنے کے لئے اپنارول اد کریں۔‘‘ اس احتجاج میں کئی علماء اور ائمہ مساجد بھی شریک تھے۔